MAS Vision

What is Islam

Islam is a complete code of life as it teaches us three wonderful rules of critical thinking;

Don't you see?
 (51-21) أَفَلَا تُبْصِرُونَ
 کیا تم دیکھتے نہیں؟
Don't you think?
 (04-82) أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ  
کیا تم سوچتے نہیں؟
Don't you understand
(23-85) أَفَلَا تَذَكَّرُونَ  
 کیا تم سمجهتے نہیں؟

 

By utilizing all of above we can manage to live according to the way of Allah Almighty and His prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). And His Countless blessing are bestowed upon us, انشاء اللہ

Completion of Faith

فداك روحى و نفسي و أمي و أبي يا مرشدي یا رسول اللہ صلى الله عليه و اله وسلم

۔۔۔ میں اور میرے ماں باپ میرے آقا و مولارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر قربان

Me and my parents will sacrifice our lives for our beloved Master and Messanger of Allah (Peace be upon him

Who is Allah Almighty

اللہ زمین و آسمان کا نور ہے۔ دل کا سکون ہے۔

اللہ پاک کے زکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔

لفظ اللہ کے حرف "ا" کی ادائیگی عمل تنفس سے ہوتی ہے۔ جو سانس کو کنٹرول کرتا ہے۔ حرف "ل" سانس لینے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ آخری حرف "ہ" کے ادا کرنے سے پھپھڑوں اور دل کے درمیان رابطہ پیدا ہوتا

ہے جو دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔ بے شک اللہ کے زکر سے دل کو سکون ملتا ہے۔

 

Allah is the light of heaven and earth. He is a comfort of hearts. His remembrance comforted the hearts.


World” Allah’s” letter "Alaf" is connected with breathing, that it is breath controller. Letter "Laam" makes breathing easier. The last letter "Hay" provide the connection between the heart and lungs and thus controls heartbeat. Indeed Allah has relieved our heart by His remembrance.

Muhammad (Peace Be Up On Him)

ذات سرکا رصلی اللہ علیہ و سلم محور ہے ۔ ہماری تہذیب و تمدن کا۔ ہماری معیشت ہ سیاست کا، یہ وہ روشنی ہے جس کی کرنوں سے ہمارے روز و شب جگمگاتے ہیں۔ وہ خوشبو ہے جس سے ہمارے جسم و جاں مہکتے ہیں۔

ہم سب محمد ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہیں ۔محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ہیں۔ ہمیں ان جیسا بننا ہو گاتا کہ روزِقیامت سرکارصلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑئے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ اللہ تک پہنچنے کا واحدراستہ سرکار صلی اللہ علیہ و سلم کی زاتِ باصفات ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچنے کا واحد راستہ اللہ پاک کی ذات ہے، یہ ہی مقصد حیات و منزل کامل ہے، اور وقت کی ضرورت بھی۔

The personality of Muhammad (رصلی اللہ علیہ و سلم) is a center of our culture and civilization, our economy and politics. It is a light from  which our days and nights are lighted. It is an aroma which fragrance our body and soul.


We all are Muhammad. We belong to Muhammad (رصلی اللہ علیہ و سلم), and we are for Muhammad (رصلی اللہ علیہ و سلم). We have to be like him so that we have not been ashamed on the Day of Resurrection, It is a living reality of life that to reach to the Holy Prophet (رصلی اللہ علیہ و سلم) of Allah, Allah is the only available way and to reach Allah Almighty, Muhammad (رصلی اللہ علیہ و سلم) is the only available path. This is the main objective and the perfect goal of one's life, and also the necessity of time.

What is Love

محبت کا مطلب اپنے آپ کو پہچاننا ہے ۔ محبت حقیقی ہو یا مجاذی اس کی پہلی سیڑھی ادب ہے۔ ادب کی یہ معراج ہے کہ محب اپنی تمام تر توجہ اور ہمت اپنے محبوب تک پہنچنے میں لگا دے۔ محبت کی معراج محبوب کے قدم ہیں۔ عشقِ مجاذی عشقِ حقیقی کی درسگاہ ہے۔

The meaning of love is to distinguish yourself. Weather the love is metaphoric or divinely its first step is the respect. The ascent of respect is that the lover focuses all its attention and courage into his beloved. The ascent of Love is to reach in the steps of  the beloved. Metaphoric love is a school for divine love.

What is Heaven

جنت وہ انتہائی مزہ ہے جو اللہ پاک اپنی قدرت سے ان لوگوں کو عطاکرتا ہے جو اس کی خوشنودی کی خاطر اپنی جانوں کو سختیوں میں ڈالتے ہیں۔ سخت سردیوں میں جب عام لوگوں کو اپنے گرم گرم بستروں سے نکلنا بھی مشکل لگتا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ پہ جبر کرتے ہوئے عبادت و ریاضت میں لگ جاتے ہیں۔ اپنے آپکو اللہ پاک کی خوشنودی کے لیے تھکا لیتے ہیں، تو اللہ پاک انھیں وہ انتہائی مزہ عطافرماتاہے جسے عرفِ عام میں جنت کہا جاتا ہے۔
مگر جو لوگ اپنے آپ کو آرام کا عادی بنا لیتے ہیں تو ان کے لیے اللہ پاک نے انتہائی عذاب رکھ چھوڑا ہے۔ جس کا نام جہنم ہے۔
پس جس کو جو انعام ملے گا اس کو ہمیشہ اس میں ہی رہناہوگا۔ ایسانہیں کہ ان کو ان کے عمال کے مخالف انعام ملے مگر پروردگار کی مرضی سے۔

Heaven is the supreme and extreme pleasure which is granted by Allah Almighty to those who indulge their lives for His happiness. In Cruel winter when people feel it very hard to get out of their warm beds, these people tired themselves to force to pay their adoration and Asceticism only for the pleasure of Allah Almighty, then Allah Almighty bestowed them the most supreme pleasure known as Jannah.
But those who used to addict themselves in comfort, for them Allah Almighty has kept the supreme penalty, called hell .
So who will get the award will have to attain it forever . It is His decree to award oppositely but everyone will be repaid as per his deeds, but by the will of his Lord.

Duaa

ہم اللہ عزوجل سے اپنی عقل و وسمجھ کے مطابق مانگتے ہیں مگر وہ ہمیں اپنی عقل و سمجھ کے مطابق عطا کرتا ہے اور بے شک اللہ عزوجل کی عقل و سمجھ ہی کامل ہے۔

We ask Allah Almighty, according to our wisdom and understanding but He gives us according to His wisdom and understanding and Indeed Allah's wisdom and understanding are the most perfect one.

How to control Jealousy

حسد پہ قابوپانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دنیاوی معاملات میں ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھا کرو اور دینی معاملات میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھا کرو ہمیشہ فلاح پاؤ گے

The easiest way to overcome Jealousy; one should always consider the person below him in worldly matters and above him in spiritual matters.

Fear of Allah

ہم سب نے اللہ کے ڈر کو اٹھایا ہو ا ہے۔ مگر کسی نے بھی اس ڈر کو اپنے دل میں اتارنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ لہذا یہ ڈر ہمارے کسی کام نہیں آتا اور ہمارے شب و روز کے معملات میں یہ کہیں نہیں جھلکتا۔ جب ہم اس کو اپنے اندر اتار یں گے تبھی ہمارے معملات اللہ پاک کی خوشنودی کے عین مطابق ہو نگے۔

We all carry Fear of God, but none of us tries to assimilate it in our heart, that’s why it is useless for us, and we forget it in our everyday dealings. When we absorb it in our heart then, our deeds will be according to Allah’s will.

Mercy for Whole Universe
ٓ

اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اے نبی( صل اللہ علیہ والہ وسلم) ہم نے تمیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کے بیجھاہے۔ مطلب تمام جہانوں کی مخلوق رسولِ پاک ( صل اللہ علیہ والہ وسلم) کی امت ہے۔ پوری امت دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ ایک امتِ دعویٰ اور دوسری امتِ اِیجابہ۔ امتِ اِیجابہ سے مراد مسلمان ہیں جنھوں نے یہ مان لیا ہے اور تسلیم کر لیا ہے کہ ہمارا سب کچھ سرکار( صل اللہ علیہ والہ وسلم) کا ہے۔ جبکہ امتِ دعویٰ سے مراد وہ امت ہے جس نے ابھی سرکار( صل اللہ علیہ والہ وسلم) کو اپنا ہادی اور رہبر نہیں مانا یعنی تمام غیر مسلم۔ اب یہ امتِ اِیجابہ کا فرض ہے کہ وہ امتِ دعویٰ کو ایجاب و قبول تک لائے۔ اس کے لیے واحد راستہ تبلیغِ دین ہے ۔ اور محبت اس کی واحد لاٹھی ہے۔

Allah Almighty says in Holy Quran, that Oh Prophet (peace and blessings be upon him)! We send you as a mercy for all mankind. It means that whole world (Universe) and all its creatures people of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him). The nation is divided into two parts. The whole world is divided into two nations, the Acceptor Nation (believers/Ajaybah) and other Non-acceptor nations (Non-believers) or Ummat-e-Dawa. Acceptor Nation (Ajaybah) means people who are Muslims and accepted him (peace be upon him) as their master and have accepted everything that our government (peace be upon him). While on the other hand people of non-acceptor nations (Non-believers/Dawa) refers to people who did not have accepted him (peace be upon him) as their and ultimately servitor, that is non-Muslim. It is the duty of the Acceptor Nation (believers/Ajaybah) people to convert non-acceptor nations (Non-believers/Dawa) to become people of Ummat-e-Ajaybah (People of Muhammad (peace be upon him)). The only way is to preach true religion. Love is the only instrument that works effectively.

Mankind's Evilness

ٓانسانیت ابھی تک عالم طفولیت میں ہی ہے کہ پیغمبروں، رسولوں، ولیوں، فلسفیوں اور حکیموں کی تعلیمات اس پہ وہ خاطر خواہ اثرات مرتب نہیں کر سکی جو وہ حضرات کرنا چاہتے تھے۔ انسان آرام سے رہنا ہی نہیں چاہتا۔ جاہ و حشمت اور عظمت و آسودگی کا معیار لڑائی جھگڑا اور فتنہ و فسادٹھہرا۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ ان اغراض کی آگ کبھی مذہب و عقیدے کے نام پہ بھڑکی اور کبھی شخصی آزادی کے نام پہ۔لیکن درحقیقت ان اغراض کا مذہب و عقیدے اور شخصی آزادی سے بس اتنا ہی تعلق ہے کہ ان کے مقاصد کو سند جواز مل سکے۔اور پیٹ کا ایندھن بھر سکے۔۔۔

Humanity is still not mature enough, as teachings of the Prophets, Apostles, Saints, Philosophers and Wise-men yet not set up a significant impact on what they want to think. Man doesn’t want to live with comfortably. Power, glory and majestic and tranquility of quality are the fighting temptation. History is witness that the fire of their interests broke out in the name of religion and belief and the role of religion and belief and self-freedom but in fact these role of religion and belief and self-freedom has no concern about it. The only interest of religion and belief and self-freedom is to provide legal status for this brutal fight

Yearning

ٓاللہ پاک کی زبان تڑپ ہے۔ تمام انبیا کی دعا تڑپ لیے ہوئے تھیں۔ کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک اس میں تڑپ پیدا نہ ہو۔ ماں کی دعا اس لیے قبول ہوتی ہے کہ تڑپ لیے ہوتی ہے۔ اگر چاہتے ہو کہ تمہاری دعا قبولیت کے منازل طے کرتی ربّ حقیقی تک پہنچے تو اپنے اندر تڑپ پیدا کرنی ہو گی۔

Yearning is the language of Allah Almighty. All the prayers of the prophets encircles with yearning. No sent can be a sent without full and complete yearning. Mother’s prayers are accept because of yearning by the sufferings of her kids. If you want it to thrive your prayers upon acceptance decorate it with yearnings…

Divine Attributes

اللہ پاک نے اپنی صفات میں آیتِ غضب کے ساتھ ساتھ آیتِ رحمت کو بھی رکھا ہے،تاکہ بندہ اپنے ربّ سے خوف بھی کھائے اور اس سے رغبت بھی رکھے اور غیر حق کے لیے اس کا شکر ادا نہ کرے۔اگر اس نے ایسا نہ کیا تو غائب چیزوں میں موت سے زیادہ اسے کوئی چیز محبوب نہ ہو گی۔ اس کے بعد اللہ اس کا حساب لے گااور حق اور اس کے اتباع کا اسے نیک اجر دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرتابوبکرالصدیق کی حضرت عمرالفاروق کو نصیحت

Allah Almighty have both attributes, that is of mercy as well as attributes of wrath, so that man should have fear to the Lord and then love Him and not thanking any other God but Him. If man didn’t do it then among the rightful missing items nothing more beloved to death. Then God will hold him accountable for the truth and good will reward his followers.

   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Hazrat Abū Bakr As Ṣiddīq advised to Hazrat Omer Al Faruq

Thinking Process

ہم اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے تنہا اپنی عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ عقل کے ساتھ ساتھ ہمارے جذبات کا بھی ہم پہ قرار واقعی اقتدار ہے اور اس میں ذاتی یاغیر ذاتی مسئلے کی کوئی قید نہیں۔ ہمارے اندر عقل وجذبات کی باہمی شورش ہمیشہ برپا رہتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی ہم عقل کے طابع ہو کہ فیصلہ کرتے ہیں اور کبھی جذبات کے طابع ہو کے،یہ ناممکن ہے کہ ہم عقل کے حکم اور جذبات کے حکم میں کوئی حدِفاصلہ قائم کر سکیں۔یہ بھی صیح ہے کہ بعض لوگوں پہ جذبات کا غلبہ ہوتا ہے اور بعض پہ عقل کا، لیکن مقدار کا اختلاف ہمارے احکام کی توجیہ میں عقل و جذبات کے امتزاج کو نہیں بدلتا۔

We do not work with the mind alone to solve our everyday problems, but our emotions has equal influence without any restriction of personal or private issues. We always have a mutual conflict between wisdom and emotions and the result is that sometime we take decisions under the influence of mind/wisdom and sometime with emotions, it is impossible that we draw any boundary or limits between the spirit of wisdom and emotions. It’s very much true that some people overcome by emotion and some people overcome by wisdom. But the amount of difference does not change the mix of intellect and emotion interpretation of our rules/decisions.

Meraj un Nabi

اللہ پاک نے ہر قوم میں انبیاء مبعوث فرمائے۔ یہ انبیاء ان میں سے ہی تھے۔ ان انبیاء کی بات میں اثر پیدا کرنے کے لیے اللہ پاک نے ان انبیاء کو معجزات سے نوازا۔ یہ معجزات بھی ان کی قوم کے مطابق تھے۔ مثلا حضرت موسی علیہ السلام کی قوم جادو وغیرہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ بچہ بچہ بلا کا جادوگر تھا۔ اللہ پاک نے حضرت موسی علیہ السلام کو عصاء اور یدبعضاء کا معجزا عطا فرمایا۔ جو ان کے تمام جادو کو کھا گیا اور تمام نامی گرامی جادوگر عاجز آ گئے۔ حضرت دانیال علیہ السلام کی قوم ستاروں کے علم میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتی تھی۔ اللہ پاک نے حضرت دانیال علیہ السلام کو وہ علم دیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اللہ کے نبی علیہ السلام ہاتھ کی جنبش سے ستارون کی چال الٹ دیتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم طب میں کمال عروج کو پہنچی ہوئی تھی۔ ان کی قوم میں بڑے بڑے حکماء پیدا ہوئے جو دور سے آتے ہوئے شخص کی چال دیکھ کہ اس کی بیماری کو جان جاتے تھے ۔ اس قوم میں اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ہاتھ کے اشارے سے بیماروں کو تندرست کر دیتے اور مردوں کو زندہ کر دیتے۔ لیکن ان تمام انبیاء اکرام علیہ السلام کے معجزات صرف ایک مقررہ وقت تک کے لیے اور ایک خاص قوم کے لیے تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت تمام جہانوں کے لیے اور ہر قوم کے لیے ہے۔ پچھلے تمام انبیا کی تمام خوبیاں اور معجزات آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات با صفات میں جمع کر دی گیں تھیں۔ اللہ پاک یہ جانتاتھا کہ آپ کی امت پر ایک وقت ایسا آئے گا جب سائنس اپنے کمال کو پہنچے جائے گی کہ انسان دنوں کا سفر مہینوں کا سفر دنوں میں اور دنوں کا سفر لمہوں میں طے کر گا حطہ کہ چاند پہ جا پہنچے گا۔ اسی لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو وہ معجزے عطا کیے گیے کہ عقل انسانی دھنگ رہ گئی۔ کہیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی انگلی کے اشارے سے چاند دو لخت ہوتا ہے اور کہیں رات کہ مختصر حصے میں اللہ پاک آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مسجد احرام(مکہ) سے مسجد اقصیٰ اور پھر مسجد اقصیٰ(بیت المقدس) سے عالم بالا لے گیا۔ اور تمام عالم با لا کی سیر سے مستفید کیا اور اپنے آپ سے ہم کلام ہونے کا شرف عطا فرمایا۔

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ

Allah hath sent prophets to every Nation. These Prophets are from same nations. To create the effect of these prophets, Allah Almighty gave them prophetic miracles. These miracles were according to their people. For instance People of Moses were indomitable in magic. Each and every men was a skilled magician. Allah has given the miracle of scepter (staff) and the glowing hand to Moses. That eats all the magic and all the Great Magician become frustrated. People of Daniel indomitable in astrology. Allah has given him the unprecedented knowledge. Allah's Prophet used to move stars opposite by his hand’s move. Jesus people had reached the peak of perfection in medicine. His nation has born great philosophers who judge the disease by the way of walking. The Prophet of Allah would heal the sick with his hand gestures and men tend to live after his death. But all these miracles are for certain time and for a certain nation. The Prophecy of Holy prophet Muhammad (Peace be upon him) is for all mankind and the nation. All the virtues and miracles of the previous prophets were credited to him by Allah (SAW). Allah knew that it would come a time when the scientific community will reach its perfection that one day journey will come in the months of travel into days and days into moments. And man will travel and concur the moon. That is why the Holy Prophet (SAW) has given signs that he went down to understanding human mind. That is why our Prophet (SAW) splits the moon into two by his finger-pointing and Allah Almighty bestowed him with the miraculous night journey from Makah to Masjid al Aqsa (al Isra) and his ascension through the heavens (al Ma'araj) in a very short interval of time. And Allah Almighty honored him with his talking (from behind a curtain).

Two Nation Theory

اکثر لوگ یہ خیا ل کر تے ہیں کہ دو قومی نظریہ اب ختم ہو گیا ہے۔ دو قومی نظریہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں دو قومی نظریہ بتاتا ہے کہ۔ ہر قوم دوسری سے الگ قوم ہے۔ ہر قوم کا اپنا سماجی اور معاشرتی نظام ہے، جو اسے دوسری قوم سے سرفراز کرتا ہے،رسم و رواج، رہن سہن سب دوسروں سے الگ ہے ۔ دو قومی نظریہ بتاتا ہے کہ ہر دو قوموں کو ایک دوسرے کی آزادی کا، سماجی اور معاشرتی نظام کا،رسم و رواج اور رہن سہن کا احترام و ادب کرنا فرض ہے۔ تبھی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ دو قومی نظریہ اسلام کا نظریہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ یہ نظریہ پاکستا ن کی اساس ہے۔ پاکستان اپنے اندر بسنے والی ہر قوم کو یہ حق دیتا ہے کو وہ اپنے سماجی اور معاشرتی نظام کے مطابق آزادانہ زندگی گزاریں۔ان سے ان کے مذہب اور قوم کی وجہ سے امتیازی سلوک نہ رکھا جائے گا

Two-nation theory that most people are convinced it is over now. Two-nation theory can never be finished. As far as I understand, two-nation theory. It tells that, every community is different from other Community. Each nation has its own social system, which is lifted from the people, customs, and way of living is different from others. The two-nation theory shows that two nations should respect, freedom of one another, their social systems, their customs and traditions, and also have equal obligation to respect the life and literature of other nations. It is only then can get a healthy society. The concept of the two-nation theory said that there is no compulsion in religion. This concept is the foundation of Pakistan. Pakistanis will not be discriminated against their religion and every nation has equal right to spend their life according to their religion and their social system freely and without any fear.

 

 

MASHAHZAD Blog Post

Forty Rules of Love and My Understanding.

MASHAHZAD Vision

Three wonderful things

Latest Projects

Volunteere with PMI Islamabad Pakistan Chapter